مودی کا طلسم ٹوٹ رہا ہے

دیس درپن, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

مودی حکومت کی میعاد پوری ہونے میں اب صرف ایک سال باقی بچا ہے۔ چار سالوں میں مودی جی نے بطور وزیر اعظم کوئی ایسا بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، جس سے وہ ووٹروں کو اپنے ساتھ آگے بھی باندھے رکھ سکیں۔ ان کے خلاف عوام کی ناراضگی اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں لوک سبھا کی کم از کم ۱۶ سیٹوں کے لیے ضمنی انتخابات ہوئے، لیکن ان میں سے بی جے پی صرف 6 سیٹوں پر ہی جیت درج کرا سکی، باقی ۱۰ جگہوں پر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی دو دن پہلے ہی اترپردیش کی ان دو سیٹوں پر بی جے پی کو زبردست شکست ملی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے اس کا مضبوط قلعہ تصور کی جاتی تھی۔ گورکھپور اور پھول پور میں بی جے پی متعدد بار سے اپنی جیت کو یقینی بناتی آ رہی تھی، لیکن اس بار وہاں کے لوگوں نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ سب سے زیادہ حیرانی گورکھپور سیٹ کو لے کر ہے، جہاں پہلے یوگی آدتیہ ناتھ لاکھوں ووٹوں کے فرق سے اپنی جیت درج کرایا کرتے تھے، لیکن اس بار ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد لوگوں کا اعتماد بی جے پی کے اوپر سے اٹھ گیا۔

مایاوتی جیسے کچھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اگلا لوک سبھا الیکشن وقت سے پہلے کرا سکتی ہے۔ ابھی چند دنوں سے ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ خود این ڈی اے کی حلیف پارٹیاں بی جے پی سے کنارہ کرنے لگی ہیں۔ عوام کوتو اپنا حساب چکانے کے لیے پانچ سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے، لیکن حلیف پارٹیاں تو بیچ میں ہی کبھی بھی سرکار سے الگ ہونے کا اعلان کر سکتی ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس اور ٹی ڈی پی نے اب ایسا کرکے دکھا دیا ہے۔ جنوبی ہند کی ان دونوں پارٹیوں کو مودی جی سے یہ شکایت ہے کہ انھوں نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس کے بعد اگلے عام انتخابات میں ایسا ہی کچھ عوام کی طرف سے بھی دیکھنے سننے کو مل سکتا ہے۔ عوام سے تو مودی جی نے ایسے ایسے وعدے کیے تھے، جنہیں پورا کرنا مودی جی کیا، کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سوا سو کروڑ ہندوستانیوں میں سے ہر ایک کے بینک کھاتہ میں پندرہ لاکھ روپے آنے کی بات۔ کیا ہندوستان کی کوئی بھی حکومت اس کی متحمل ہو سکتی ہے؟ نہ جانے مودی جی کو یہ ’جملہ‘ بولنے کے لیے کس نے آمادہ کیا تھا، جس کا اب جاکر انھیں ملال ہو رہا ہوگا۔

اسی طرح نوجوانوں سے روزگار دلانے کے تعلق سے کیا گیا وعدہ بھی مودی جی چار سال کے دوران پورا نہیں کر پائے ہیں۔ داؤد ابراہیم کو پاکستان سے کالر پکڑ کر لانے کا وعدہ پورا نہیں کر سکے ہیں۔ ایک فوجی کی شہادت کے بدلے پاکستان کے سو فوجیوں کا سر کاٹ کر لانے کا وعدہ مودی جی آج تک پورا نہیں کر سکے ہیں، بلکہ اس کے برعکس سرحد پر شہید ہونے والے جوانوں کی تعداد میں بی جے پی حکومت کے دوران بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں سے مودی جی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مسلمان جس دن انھیں ٹھیک سے جان جائیں گے، اس دن سے ان کے قائل ہو جائیں گے۔ لیکن گزشتہ چار سالوں میں ملک بھر میں مسلمانوں پر ظلم ہوئے اور مودی جی خاموش رہے، وہ ان کی جان بچانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ ہندوؤں سے رام مندر بنانے کا وعدہ مودی جی پورا نہیں کر سکے ہیں۔ ’میک اِن انڈیا‘ کو پوری طرح زمین پر نہیں اتار سکے ہیں۔ کسانوں کی بدحالی دور نہیں کر سکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں کسان آج بھی خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران انھوں نے رسوئی گیس کی قیمت بڑھا دی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں، ریلوے کا کرایہ بڑھا دیا، جی ایس ٹی کے نام پر ٹیکس بڑھا دیا۔ اوپر سے جھوٹ بولا گیا کہ ان پیسوں سے ملک ترقی کرے گا، لیکن ٹیکس سے وصول کیے جا رہے یہ سارے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں، اس کا حساب مودی جی دینے کو تیار نہیں ہیں۔

لوک پال کی تقرری کا معاملہ تو اب ایسا لگتا ہے کہ ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ بدعنوانی اور رشوت خوری پہلے کی طرح جاری ہے۔ بینکوں کو لوٹنے والے لوگ ملک چھوڑ کر آسانی سے چلے جاتے ہیں، وجے مالیہ اور للت مودی کو آج تک ملک واپس نہیں لا یا جا سکا ہے۔ نیرو مودی اور میہل چوکسی تو مودی جی کے ہی دور میں ملک سے فرار ہوئے۔

ایسے میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیے ماحول نہایت سازگار ہے کہ وہ آپس میں ہاتھ ملائیں اور متحد ہو کر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیں۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ آنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے، وہ ہم نے گورکھپور اور پھول پور میں دیکھ ہی لیا ہے۔ آئندہ لوک سبھا انتخاب میں اگر یہ دونوں پارٹیاں اسی طرح متحد رہتی ہیں، تو ۸۰ لوک سبھا سیٹوں والے اترپردیش میں بی جے پی کی حالت خراب کر سکتی ہیں۔ اُدھر ایک دوسرے کی سخت مخالف ٹی ڈی پی اور ٹی آر ایس کانگریس بھی جنوبی ہند میں ایسا کرکے وہاں پر بی جے پی کو جیتنے سے روک سکتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ دیگر ریاستوں میں بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اپنے اپنے اختلافات کو بھلا کر سچے دل سے اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو جائیں۔