محمد سمیع کا بیوی سے جھگڑا

دیس درپن, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے واحد مسلم کرکٹ کھلاڑی محمد سمیع کو آج تھوڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے سمیع کی بیوی حسین جہاں کے ذریعہ ان پر لگائے گئے میچ فکسنگ کے الزام کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی سے عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ وہ سات دنوں کے اندر اپنی جانچ مکمل کرکے رپورٹ بی سی سی آئی کو سونپے۔ آج جب ہندوستانی کرکٹ بورڈ، بی سی سی آئی نے یہ رپورٹ دیکھی تو پایا کہ محمد سمیع پر لگائے گئے میچ فکسنگ کے تمام تر الزامات بے بنیاد تھے۔ اس خبر سے نہ صرف محمد سمیع کو راحت ملی ہے، بلکہ ملک و بیرونِ ملک میں سمیع کے لاکھوں چاہنے والوں کو بھی سکون ملا ہے۔ کسی کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ سمیع جیسے ہونہار کھلاڑی پر ان کی ہی بیوی کے ذریعہ اس قسم کا الزام لگایا جائے گا۔ یہ الزام دراصل محمد سمیع پر نہیں تھا، بلکہ پوری ہندوستانی ٹیم اور اس یہاں کے کرکٹ بورڈ پر تھا، اس لیے اگر حسین جہاں کی بات کو سچ مان لیا جاتا، تو پھر یہ بات اپنے آپ ہی سچ ثابت ہو جاتی کہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم پیسوں کے دَم پر غلط اور ناجائز طریقے سے میچ میں جیت حاصل کرتی ہے۔ لیکن، شکر ہے کہ بدعنوانی مخالف ٹیم کو اپنی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، جو حسین جہاں کے الزامات کو صحیح ٹھہراتا ہو۔

حسین جہاں چند دنوں قبل جب پہلی بار اپنے شوہر کے خلاف الزامات کی پوٹلی کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر نظر آئیں، تو ان کی بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے لوگوں کو لگا کہ واقعی میں ان پر ظلم ہوا ہے۔ ایک عورت جب آنسو بہاتی ہے، تو پھر بڑے بڑوں کے دل پگھل جاتے ہیں۔ لیکن، حسین جہاں جس پر الزام لگا رہی تھیں، وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا، بلکہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا وہ تیز گیند باز ہے، جس کی گیند کے سامنے بڑے بڑے بلے باز کانپنے لگتے ہیں۔ اس لیے، ٹی وی چینلوں نے بھی حسین جہاں اور محمد سمیع کی گھریلو زندگی میں جھانکنا شروع کر دیا۔ تفصیلات جب سامنے آئی، تو بہت سے لوگوں کو پہلی بار یہ پتہ چلا کہ حسین جہاں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے ہی آزاد خیال کی رہی ہیں۔ خود ان کے والدین اور ٹیچروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ حسین جہاں بہت کم وقت میں بہت کچھ حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ پہلی شادی انھوں نے جس شخص سے کی تھی اور پھر اس سے دو بچے ہونے کے باوجود اسے چھوڑ دیا تھا، ٹی وی کے رپورٹر اس شخص کے پاس بھی پہنچ گئے۔ اس کی معصومیت کو دیکھ کر آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ حسین جہاں نے اس شریف انسان کے گھر میں گھٹن محسوس کی اپنی آزاد خیالی کی وجہ سے۔

پھر وہ کرکٹ میچ کے دوران کھیل کے میدانوں پر چیئر لیڈرس کے طور پر رقص کرنے کا کام کرنے لگیں۔ یہیں ایک دن ان کی ملاقات محمد سمیع جیسے ہونہار کھلاڑی سے ہوئی، جس نے ابھی ابھی کرکٹ میں اپنا کریئر شروع کیا تھا۔ دونوں میں معاشقہ چلا اور اس طرح اپنے پہلے شوہر کو الوداع کہہ کر حسین جہاں سے محمد سمیع سے شادی کر لی۔ سمیع کی مانیں تو انھوں نے اپنی بیوی حسین جہاں پر جس طرح ایک سال کے اندر کروڑوں روپے خرچ کیے اور تمام سہولیات فراہم کیں، اس سے حسین جہاں کا خواب ایک طرح سے پورا ہو گیا۔ پھر تو فیس بک پر بھی دونوں کی تصویریں وائرل ہونے لگیں۔ مسلم سماج کے لوگوں نے جب حسین جہاں کی اس قدر آزاد خیالی پر تبصرہ کیا، تو اُلٹے مسلمانوں کو بھلا برا کہا جانے لگا۔ جو غیر مسلم ہیں، انھوں نے بھی مسلمانوں کو خوب جی بھر کر کوسا کہ وہ اپنی عورتوں کو برقع میں قید کرکے رکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن، اب حسین جہاں نے جس طرح اپنے شوہر محمد سمیع پر عصمت دری تک کے الزامات لگائے ہیں، اس سے غیر مسلم طبقہ بھی حیران ہے۔ میاں بیوی کے درمیان بحث و مباحثہ اور جھگڑا ہر گھر میں ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے گھر کی عزت بازار میں نیلام کی جائے۔ اگر حسین جہاں پر محمد سمیع نے کوئی ظلم کیا تھا، تو اس کے لیے ملک میں پولس ہے، قانون ہے، عدالتیں ہیں۔ حسین جہاں کو ان سب کا سہارا لینا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے محمد سمیع کی عزت کو جس طرح سر عام نیلام کیا، اسے کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور تو اور، اپنے ہی شوہر پر اپنی عصمت دری کرنے کا الزام لگانا تو نہایت ہی شرمناک ہے، حالانکہ دونوں کی ایک بچی بھی ہے۔

بہرحال، انسداد بدعنوانی کمیٹی نے محمد سمیع کو میچ فکسنگ کے معاملے میں کلین چٹ تو دے ہی دی ہے، آنے والے دنوں میں باقی معاملوں میں بھی اس ہونہار کھلاڑی کو کلین چٹ ملنے کی توقع کی جانی چاہیے۔ کرکٹ ٹیم میں ویسے بھی مسلم کھلاڑیوں کا قحط ہے، ایسے میں اگر محمد سمیع کو بھی ٹیم سے باہر نکال دیا گیا، تو یہ کم از کم ہم ہندوستانیوں کے لیے اچھی خبر نہیں ہوگی۔