فیس بک، وہاٹس ایپ کی خامیاں

دنیا جہان, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

دورِ حاضر کی ایک بڑی بیماری ہے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ۔ آج آپ کو اسکول جانے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کی آنکھوں پر موٹے موٹے چشمے ہر جگہ دیکھنے کو مل جائیں گے۔ یہ اسی بیماری کا نتیجہ ہے۔ گھر سے لے کر بازار تک ہر بچہ آج کل موبائل فون پر لگا ہوا ہے۔ فیس بک نے ضابطہ تو بنایا ہے کہ چودہ سال سے کم عمر کے بچے اپنا اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے، لیکن اگر کوئی جھوٹ بول کر اپنا اکاؤنٹ کھول لے، تو اسے روکنے کا فیس بک کے پاس کوئی میکانزم نہیں ہے۔ وہاٹس ایپ اکاؤنٹ کھولنے میں تو عمر کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔ ماں باپ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور ان کے بچے کسی کونے میں بیٹھے ہوئے موبائل فون پر لگے ہوئے ہیں۔ تمام طرح کی واہیات ان سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر آج کل دستیاب ہیں۔

شام ہوتے ہیں، فیس بک پر لائیو ویڈیو کی بہار آ جاتی ہے۔ ہر کوئی ٹی وی اینکر بن جاتا ہے۔ لائک اور کمنٹ کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ لیکن، اگر ان سے پوچھئے کہ اس کا حاصل کیا ہے، تو کوئی بھی جواب نہیں دے پائے گا۔ وقت کے زیاں کے علاوہ اس سے کچھ بھی ہاتھ نہیں لگ رہا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ کے بارے میں پہلے ہی دن سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس سے آپ کے تمام بچھڑے ہوئے دوست مل جاتے ہیں۔ یہ بات کچھ حد تک صحیح بھی ہے۔ لیکن، ان سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے اپنے ماں باپ، دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو خط لکھنے کا رواج پوری طرح ختم کر دیا ہے۔ صبح میں گڈ مارننگ کے پھول سے لے کر رات کو گڈ نائٹ کے پیغام تک سب چیز آپ کو اب فیس بک اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ مل جاتی ہے۔

لیکن، اب دنیا پریشان ہونے لگی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی عدالتیں اور پارلیمنٹ فیس بک کے مالک، مارک زوکر برگ کو تلاش کر رہی ہیں۔ ان پر الزام لگ رہا ہے کہ فیس بک نے کروڑوں صارفین کی ذاتی معلومات چرائیں اور پھر ان کا غلط استعمال کیا۔ امریکہ کے باغی اسنوڈین تو کافی عرصے سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ فیس بک دراصل امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے کا ایک سرویلانس پروگرام ہے، جس کے ذریعہ وہ پوری دنیا کے لوگوں پر نظر رکھتی ہے۔ آج جب کیمبرج اینالٹکا کمپنی پر یہ الزام لگا کہ اس نے پانچ کروڑ فیس بک یوزرس کے ڈیٹا چرا کر دوسروں کو فروخت کر دیے، تو لوگوں کو اسنوڈین کی بات اب سچی لگنے لگی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے ۲۰۱۶ کے انتخابات کے دوران کیمبرج اینالٹکا کی خدمات حاصل کیں۔ اب امریکہ میں اس الزام کی جانچ کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اب لیڈروں کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ وزیر قانون ری شنکر پرساد نے آج واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اگر ڈیٹا لیک معاملہ میں فیس بک کی غلطی ثابت ہوتی ہے، تو پھر اسے بخشا نہیں جائے گا۔ کیمبرج اینالٹکا پر الزام ہے کہ اس نے ہندوستان کے انتخابات میں بھی کئی سیاسی پارٹیوں کو اپنی خدمات فراہم کی ہیں۔

ویسے، دنیا کے ذی شعور لوگ پہلے سے ہی یہ نصیحت کرتے رہے ہیں کہ فیس بک پر اپنی ہائی ریزولیوشن کی تصویر نہ ڈالیں، خاص کر لڑکیوں اور عورتوں کی تصویریں ڈالنے سے گریز کریں، کیوں کہ دنیا کے کئی ممالک میں ان تصویروں کو فحش ویب سائٹوں پر غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حد تو یہاں تک ہو چکی ہے کہ اب لوگ اپنی خودکشی کا ویڈیو بھی فیس بک پر اَپلوڈ کر دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہی چند دنوں قبل راجستھان کے راج سمند میں ایک سرپھرے نے بنگالی مزدور افرازل کے قتل کا لائیو ویڈیو وہاٹس ایپ اور فیس بک پر اپلوڈ کر دیا تھا۔ گویا کہ وہاٹس ایپ اور فیس بک اب بڑی آسانی سے کسی بھی ملک میں فرقہ وارانہ فساد بھی برپا کر سکتا ہے۔ اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔

ہماری حکومت کو چاہیے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے استعمال سے متعلق کوئی سخت قانون بنائے، تاکہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ فیس بک اور وہاٹس ایپ کی انہی خامیوں کو دیکھتے ہوئے ہمارے پڑوسی ملک چین نے ان پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔ وہاں تو گوگل بھی کام نہیں کرتا، کیوں کہ اس کا مین سروَر بھی امریکہ میں ہی موجود ہے۔ جی میل سے ڈیٹا چوری ہونے کی خبر ہم کافی دنوں سے سنتے آ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف انسانیت کو خطرہ لاحق ہے، بلکہ ملک کی سلامتی کو بھی بڑا خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے حکومت کو فوراً اس سمت میں کوئی بڑا قدم اٹھانا چاہیے۔