روزگار چھیننے والی سرکار

دہلی و آس پاس, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

دہلی سمیت پورے ہندوستان کا معاملہ یہ ہے کہ جو لوگ محنت و مزدوری کرکے اپنا گھر اور کاروبار چلا رہے ہیں، ان سے ان کا روزگار چھینا جا رہا ہے۔ سیلنگ کے نام پر پوری دہلی میں سرکاری غنڈہ گردی جاری ہے۔ پولس جب ان لوگوں سے ان کا مکان و دکان خالی کرانے پہنچی، تو انھوں نے وہ سارے سرکاری کاغذات دکھائے، جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ کاروباری ایم سی ڈی کو ہر مہینہ ٹیکس دے رہے تھے۔ لیکن، ان سرکاری کاغذات کا بھی پولس والوں پر کوئی اثر نہیں پڑا اور مکان و دکان مالکوں کو دھکے مار کر ان کے گھر سے باہر کر دیا گیا۔ خاص کر دہلی کے لاجپت نگر علاقہ میں پولس نے جس قسم کی بربریت دکھائی، اس سے پوری انسانیت شرمسار ہو گئی۔ عورتوں اور بزرگوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ لاجپت نگر کی یہ دکانیں آج سے نہیں ہیں، بلکہ کئی دہائیوں سے چل رہی ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ لاجپت نگر کوئی چھوٹی سی جگہ ہو، یا کوئی جھگی جھونپڑی ہے، جہاں تک پولس والوں یا دیگر سرکاری ایجنسیوں کی رسائی نہ ہو۔ یہ بہت مشہور مارکیٹ ہے، جہاں پر زیادہ تر سکھ برادری رہتی ہے اور کاروبار کرتی ہے۔ لیکن، آج ان سکھوں کی یہ شکایت ہے کہ پنجاب میں چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حلیف پارٹی اکالی دل کو گزشتہ اسمبلی الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس لیے بی جے پی سکھ ہونے کے ناطے بدلہ لے رہی ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ دہلی میں چاروں طرف کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ نابالغ لڑکیاں آپ کو دہلی کے امیر ترین علاقوں میں جسم فروشی کا دھندہ کرتے ہوئے نظر آ جائیں گی، لیکن اگر کسی شریف انسان نے کچھ بول دیا، تو بے عزتی اسی کی ہونی ہے۔ پولس کو ان سب غیر قانونی دھندوں کا علم ہے، لیکن بدعنوانی اس قدر حاوی ہے کہ پیسہ لے کر ہر کام چل جاتا ہے۔ نیتاؤں اور پولس والوں کی جیبیں بھرتی رہیں، عوام جائیں بھاڑ میں۔ ایسا ہی سب کچھ چل رہا ہے دہلی میں۔ دوسری طرف، جو لوگ قانونی طریقے سے اورسرکار سے تمام ضروری کاغذات حاصل کرنے کے بعد محنت سے اپنا کاروبار چلا رہے تھے، ان کی زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔

سیلنگ کا معاملہ بھی بڑا ہی عجیب و غریب ہے۔ پوری دہلی میں آپ گھوم کر دیکھ لیں، زیادہ تر جگہوں پر جو عمارتیں پہلے سے بنی ہوئی ہیں یا اب بنائی جا رہی ہیں، وہ سب پولس کو پیسے دے کر غیر قانونی طریقے سے بنائی جا رہی ہیں۔ دہلی میں دو منزل سے زیادہ اونچی عمارت بنانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن پولس کو پیسے دے کر لوگ پانچویں اور چھٹی منزل تک عمارت بنوا رہے ہیں۔ تب سرکار کو نہیں دکھائی دیتا کہ یہ غیر قانونی کام ہو رہا ہے اور ایسی عمارتوں کو سیل کر دینا چاہیے۔

کاروباریوں کو ان کے کاروبار سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک آدمی کی نہیں، بلکہ سینکڑوں آدمیوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں۔ لاجپت نگر جیسے علاقہ میں، جہاں کپڑے بیچنے کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، ہر دکان میں دس بیس ملازم ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک دکان کو سیل کرنے کا مطلب یہ ہوا ہے کہ آپ نے دکان کے مالک کی کم از کم پانچ لوگوں کی فیملی کے منھ سے تو لقمہ چھینا ہی، وہیں اس دکان میں کام کرنے والے ملازمین پر منحصر ان کے گھروں کے تقریباً پچاس لوگوں کی پلیٹ سے بھی ان کا کھانا چھین لیا۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کو عزت سے زندگی گزارنے کے بجائے غیر قانونی کام کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، کیوں کہ پیٹ بھرنے کے لیے انسان کو کھانا تو چاہیے ہی چاہیے۔ اگر اس سے اس کی نوکری چھینی جائے گی، تو وہ چوری چکاری کرے گا اور سماج میں سب کی پریشانی کا باعث بنے گا۔

دہلی کو لے کر دوسری دقت یہ ہے کہ یہاں نہ تو پوری طرح ریاستی حکومت کا حکم چلتا ہے اور نہ ہی مرکزی حکومت کا۔ موجودہ وقت میں دونوں جگہوں پر الگ الگ پارٹیوں کی سرکار ہونے کی وجہ سے بھی یہاں کے باشندوں کو متعدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت جیسے ہی کوئی فیصلہ لیتی ہے، مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے یہاں کے سربراہ لیفٹیننٹ گورنر صاحب اس پر روک لگا دیتے ہیں۔ اور ایسا ایک دو بار نہیں، بلکہ درجنوں بار ہو چکا ہے۔ اور انہی دونوں سرکاروں کے بیچ میں پس رہے ہیں دہلی کے عام لوگ۔

مودی جی جب ۲۰۱۴ میں مرکزی حکومت پر فائز ہوئے تھے، تو انھوں نے ہر مہینہ لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان کی حکومت کے چار سال گزر جانے کے بعد نئے روزگار ملنا تو دور، جو لوگ پہلے سے با روزگار ہیں، انھیں سے ان کا روزگار چھینا جانے لگا ہے۔