راہل گاندھی کا نیا اوتار

دیس درپن, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

کانگریس پارٹی کے حال ہی میں منتخب ہوئے صدر راہل گاندھی کو سیاست ویسے تو وراثت میں ملی ہے، لیکن ان کی ماں سونیا گاندھی نے اپنے بیٹے کو جس طرح میدان میں دوڑایا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ سیاست کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، وہ آج راہل گاندھی کے باڈی لینگویج سے صاف دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی میں گزشتہ دو دنوں سے چل رہے پارٹی کے سالانہ اجلاس میں راہل گاندھی نے جس طرح تقریر کی اور جس طرح اسٹیج پر موجود کرسیوں کو کارکنوں کے لیے خالی کرا دیا اور سینئر سے سینئر لیڈر کو کارکنوں کے درمیان نیچے جا کر بیٹھنے پر مجبور کیا، وہ یہ دکھاتا ہے کہ راہل گاندھی آنے والے دنوں میں بہت کچھ نیا کرنے والے ہیں۔ حالانکہ، جب انھوں نے ماں سونیا گاندھی کے بار بار سمجھانے کے بعد سیاست میں شمولیت اختیار کی تھی، تب ان کے ہاؤ بھاؤ اور طور طریقوں کو دیکھ کر سیاست کے پرانے کھلاڑیوں نے انھیں ’پپو‘ لقب دے دیا تھا۔ لیکن، اب راہل گاندھی جب بولتے ہیں تو وزیر اعظم نریندر مودی تو پریشان ہو ہی جاتے ہیں، پوری بھارتیہ جنتا پارٹی راہل کا جواب دینے کے لیے قطار بند ہو جاتی ہے۔

کانگریس اس ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے۔ اس نے ملک پر سب سے زیادہ دنوں تک حکومت کی ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے ہندوستان جن جن میدانوں میں پچھڑا ہوا ہے، اس کے لیے ذمہ دار بھی کانگریس پارٹی کو بھی سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ کانگریس کے دورِ حکومت میں جو جو گھوٹالے ہوئے، اس کا ٹھیکرا بھی کانگریس پارٹی کے سر ہی پھوڑا جاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکزی اقتدار تک پہنچنے میں یہی چیزیں کام آئیں۔ لیکن، کانگریس کے دورِ حکومت میں ہوئے گھوٹالوں کو گناتے گناتے بی جے پی ’کانگریس مکت بھارت‘ کی بات کرنے لگی۔ اس کا یہ نعرہ اس لیے تھا، تاکہ اب ملک کے عوام کانگریس کو بھول کر بی جے پی کو اپنا سب کچھ ماننے لگیں اور پھر بی جے پی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ بچے۔ یہ نعرہ خطرناک تھا اور اب بھی ہے، اس لیے کہ جس طرح ’لوک پال‘ اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں لوک آیکت کی تقرری نہ ہونے سے یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ ملک بھر میں مودی کے دورِ حکومت میں کہاں کہاں اور کتنے گھوٹالے ہو رہے ہیں، اسی طرح ’کانگریس مکت بھارت‘ میں بھی یہ پتہ نہیں چل پائے گا کہ بی جے پی صحیح کام کر رہی ہے یا غلط۔

ہمارے ملک ہندوستان کی بنیادی روح ہی ہے ’کثرت میں وحدت‘۔ یہاں ہر جگہ تکثیریت دیکھنے کو ملتی ہے۔ زبان و بیان، لباس و پوشاک، قیام و طعام، تہذیب و ثقافت، رسوم و رواج، اور نہ جانے کیا۔ اسی طرح پارٹیاں بھی کئی ہیں اور مضبوط جمہوریت کے لیے ان سب کا ہونا لازمی بھی ہے۔ لیکن جمہوریت کی روح کے برخلاف، بی جے پی چاہتی ہے کہ اس ملک میں صرف ایک ہی پارٹی رہے جس کا نام ہے بھارتیہ جنتا پارٹی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کا کوئی بھی لیڈر جب بولتا ہے، تو بھارتیہ جنتا پارٹی فوراًکانگریس کے برے کارنامے گنانے لگتی ہے۔ حد تو یہاں تک ہو چکی ہے کہ اب ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور ان پر تنقید کرنے والا کوئی اور نہیں، خود موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری آزادی نہرو کی مرہونِ منت نہیں ہے۔ یہ زبان کسی وزیر اعظم کی نہیں ہو سکتی۔ خود آج جب کوئی نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، تو بی جے پی کے لیڈر فوراً یہ کہنے لگتے ہیں کہ مودی پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور کسی کو بھی وزیر اعظم کے خلاف اس قسم کے ’الفاظ‘ استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ بات صحیح ہے، لیکن اس کا اطلاق تو خود وزیر اعظم مودی پر بھی ہوتا ہے، جو کہ آج کل پنڈت نہرو پر طنز کرنے لگے ہیں۔

بہرحال، راہل گاندھی کے تیور یہی بتا رہے ہیں کہ جس طرح ’ایک چائے والا‘ اپنے تمام مخالفین اور ناقدین کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے، ٹھیک اسی طرح ایک ’پپو‘ بھی آنے والے دنوں میں بہت کچھ کر سکتا ہے۔ حالانکہ، اب راہل گاندھی کو ’پپو‘ کہنا درست اس لیے نہیں ہے، کیوں کہ انھوں نے عوام کے درمیان جا کر دھکے کھائے ہیں اور گزشتہ برسوں میں انھوں نے کافی محنت کی ہے۔ تاہم، کانگریس کی جو موجودہ صورتحال ہے، اس میں راہل گاندھی کو ابھی اور محنت کرنی پڑے گی۔ سب سے زیادہ محنت انھیں عوام کا کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کرنی پڑے گی۔ پہلے کانگریس رئیسوں کی پارٹی ہوا کرتی تھی، لیکن اب نہیں رہی اور آج کے دور میں یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ کانگریس کو اگر آنے والے دنوں میں بی جے پی – آر ایس ایس کو شکست دینی ہے، تو اسے عوام کے درمیان جا کر کام کرنا ہوگا، لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ واقعی میں ’کانگریس کا ہاتھ، عوام کے ساتھ‘ ہے۔