انا ہزارے کے خیمہ میں سناٹا

دیس درپن, مضامین

  • ڈاکٹر قمر تبریز

تقریباً سات سال کے بعد انا ہزار ایک بار پھر دہلی کے رام لیلا میدان میں اَنشن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن، اس بار ان کے خیمہ میں سناٹا پسرا ہوا ہے۔ دراصل، لوگ انا کی چالاکی کو اچھی طرح جان گئے ہیں۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ انا ہزارے کو صرف پارلیمانی الیکشن سے پہلے ہی اَنشن کرنے کی یاد کیوں آتی ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ انا ہزارے بی جے پی اور آر ایس ایس سے اپنی قربت کی تفصیلات لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے؟ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن کے وقت ناگپور سے انا ہزار کو آدیش دیا جاتا ہے کہ وہ دہلی جا کر رام لیلا میدان پر بیٹھ جائیں اور سرکار کے خلاف بولیں، تاکہ لوگوں کو ان پر اعتماد ہو جائے کہ وہ واقعی اپنی تحریک کو لے کر سنجیدہ ہیں۔ لیکن، پچھلی بار لوگوں نے دیکھا کہ انا کی تحریک میں جتنے بھی لوگ شامل تھے، ان میں سے اکثر کا تعلق آر ایس ایس سے ہی تھا، اور اب بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ان سب کے بڑے مزے ہیں۔ اس لیے انا ہزارے کو اس بار کوئی لفٹ دینے کو تیار نہیں ہے۔

انا ہزارے بار بار دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو قصوروار بتاتے ہیں کہ کجریوال نے ان کی ہدایتوں پر عمل نہ کرتے ہوئے ایک سیاسی پارٹی بنا لی۔ حالانکہ، انا کی احسان فراموشی دیکھئے کہ دہلی ہی کیا پورے ملک میں انھیں کوئی جانتا نہیں تھا، ویسے میں کجریوال اور ان کی ٹیم نے انا ہزار کو نئے ہندوستان کا گاندھی بنا دیا۔ کجریوال کی انا ہزارے سے دوری صرف اسی لیے تھی کیوں کہ کجریوال آر ایس ایس کے لوگوں کے ساتھ رہ کر کام نہیں کرنا چاہتے تھے، جب کہ انا ہزارے ان پر ایسا کرنے کے لیے زور ڈال رہے تھے۔ اس لیے انا ہزارے کا یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ انھوں نے کجریوال کو خود سے دور کر دیا۔اس کے بعد جب ۲۰۱۴ میں کانگریس نے لوک پال بل لوک سبھا میں پیش کردیا، تو انا ہزارے واپس اپنے گاؤں رالے گن سدھی چلے گئے اور اب تقریباً چار سال بعد پھر دہلی لوٹے ہیں، کیوں کہ اگلے سال لوک سبھا الیکشن ہونا ہے۔ اس درمیان انھیں مودی حکومت کی نہ تو کوئی غلطی نظر آئی، نہ گﺅرکشا کے نام پر ملک بھر میں مسلمانوں کا قتل یاد آیا اور نہ ہی دلتوں کے خلاف ہونے والا ظلم۔ انھیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ گجرات فسادات میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، اور تب وہاں پر نریندر مودی وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے۔

انا ہزارے کے بارے میں لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ وہ فوج میں ٹرک ڈرائیور کا کام کرتے تھے اور ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی نوکری چھوڑ کر بھاگ آئے تھے۔ وہ ہائی اسکول پاس بھی نہیں ہیں۔ انھیں مراٹھی کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں آتی، اس لیے وہ نہ تو انگریزی کا اخبار پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی ہندی کا۔ انا ہزارے کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ملک کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور رالے گن سدھی میں ایک مندر کے اندر فقیری کی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن، اصلیت یہ ہے کہ رالے گن سدھی کے جس مندر میں انا ہزارے رہتے ہیں، اس میں ان کے رہنے کا کمرہ پوری طرح ایئرکنڈیشنڈ ہے۔ سڑک پر انا ہزارے ایس یو وی گاڑی سے چلتے ہیں، جس کی بازار میں قیمت لاکھوں میں ہے۔ انا ہزارے جو دھوتی کرتا پہنتے ہیں، اس کی دھلائی لانڈری میں کی جاتی ہے۔ گویا کہ انا ہزارے کی پوری زندگی ایک فقیر کی نہیں، بلکہ ایک وی آئی پی کی زندگی ہے۔ انا ہزارے کا دعویٰ ہے کہ ان کے گاؤں رالے گن سدھی میں شراب کی ایک بھی دکان نہیں ہے، لیکن جاننے والوں کا کہنا ہے کہ شام کے وقت اس گاؤں میں شراب کا بھی انتظام ہو جاتا ہے۔

لوگوں کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے جب پورے ملک میں جنتا پریوار کے نام سے بی جے پی کے خلاف ایک نیا محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اس میں ممتا بنرجی، بیجو پٹنائک، چندرا بابو نائڈو، دیوے گوڑا، شرد یادو، ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو وغیرہ لیڈر شامل ہونے کو تیار تھے۔ اس کے بعد انا ہزارے کے کہنے پر ہی جب ممتا بنرجی مغربی بنگال سے چل کر دہلی پہنچی تھیں، رام لیلا گراؤنڈ میں ایک بڑی ریلی کرنے کے لیے، جس میں انا ہزارے کو اس نئے سیاسی محاذ کا اعلان کرنا تھا، پھر رام لیلا گراؤنڈ میں ممتا بنرجی کے پہنچنے کے باوجود انا ہزارے دہلی میں رہتے ہوئے کیوں اس ریلی میں نہیں پہنچے؟ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ریلی میں شامل ہونے کے لیے نکلنے سے پہلے ہی آر ایس ایس کے کسی عہدیدار نے مہاراشٹر بھون میں جاکر انا ہزارے کو دھمکی دے دی تھی اور اسی ڈر سے وہ رام لیلا میدان نہیں پہنچے۔

انا ہزارے نے اسی شخص کو بیچ راستے میں چھوڑ دیا، جس نے انھیں ’دوسرا گاندھی‘ ہونے کا پرچار کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ یعنی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروِند کجریوال۔ انا ہزارے کو یہ بات بہت بری لگی تھی کہ ان کا شاگرد ان سے بڑا کیسے بن سکتا ہے۔ حالانکہ، کجریوال حامیوں کا کہنا ہے کہ کجریوال نے انا ہزارے سے الگ ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا، کیوں کہ انا ہزارے کے قریبی لوگوں میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی تعداد بڑھنے لگی تھی۔ بعد کے دنوں میں ہم نے دیکھا کہ انا تحریک سے اگر کسی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا، تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی تھی۔